بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے (ابتدا کرتا ہوں،) جو سامانِ ربوبیت و تواتر سے میسّر کرتا ہے
وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ
تباہی ہے اُس شخص کے لِۓ، جو (اپنی لالچ کی غرض سے اچھائ میں حصہ لینے کے بجاۓ حق بات پہ عمل کرنے والوں پہ) تعن و تشنیع (کرتا ہے اور اُن کے مابین پھوٹ تک پیدا کرنے کی کوشش) کرتا ہے
الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ
جو (یہ تک نہیں سوچتا کہ معاشرتی ارتقٰی کو کیا نقصان پہنچے گا، بلکہ صرف) پیسہ اکھٹا کِۓ جاتا ہے اور (اِس بات کا) حساب رکھتا ہے کہ (اب اُس کے پاس) کتنا اکھٹا ہوا
يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ
گویا یہ سوچ بیٹھا ہو کہ اُسکی مال و دولت (ہی اُس کا ذریعہِ فرحت ہے، اور ہمیشہ) اُس کے پاس رہے گی
كَلَّا لَيُنْبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ
ہرگِز نہیں، بلکہ (ایسا آدمی) گر پڑے گا دھجیاں بکھیر دینے والی میں
وَمَا أَدْرَكَ مَا الْحُطَمَةُ
اور کیا (تم کو) معلوم ہے کہ (انسان کی نامنہاد شان و شوکت کے) پرخچے اڑا دینے والی کیا ہے؟
نَارُ اللَّهِ الْمُوقَدَةُ
اللہ کی (وہ) آگ ہے جو (مکافاتِ عَمل کی گھِناؤنی شکل ہے - جس کا) ایندھن (وہی مال اکھٹا کرنے والی حوَس ہے جو اس شخص کے دل و دماغ) میں بھری ہے
الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْءدَةِ
جو دل کی کمزوری (کے افق) پر سے طلوع ہوتی (ہے، اور نفس کو بھسم کر دیتی) ہے
إِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُؤصَدَةٌ
بیشک یہ (حوَس) اُس (شخص) پہ (راہِ فرار کے تمام دروازے) بند (کر کے اُسے اپنی گرفت میں) باندھے جا رہی ہے
فِي عَمَدٍ مُمَدَّدَةٍ
لمبے لمبے ستونوں (جیسی اُنگلِیوں والی گرفت) میں
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے (ابتدا کرتا ہوں،) جو سامانِ ربوبیت و تواتر سے میسّر کرتا ہے
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ
پڑھو اپنے رب کے نام سے، وہ ہستی جس نے (تمام کأنات کو) تخلیق کِیا
خَلَقَ الْإِنسَنَ مِنْ عَلَقٍ
انسان (یہ تو سوچے کہ وہ، جِس کو یہی کأنات عبور کرنے کی صلاحیت عطا کی گئ ہے، اُس) کو (اللہ نے محظ) از بُودِ جفتہ تخلیق کِیا
اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ
پڑھو (اور سمجھو اپنے منتہٰی کو،) کہ تمہارے رب (نے حصول علم و تفہیم) کی (روِش میں) کرامت (رکّھی کی) ہے
الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ
وہ ہستی جس نے تمہیں (بذریعہِ عقل و دانش،) قلم کا استعمال سِکھایا
عَلَّمَ الْإِنسَنَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
انسان کو وہ کچھ سکھایا جس کا علم اُسے (اِن صلاحیتوں کے بِنا) ہو ہی نہیں سکتا تھا
كَلَّا إِنَّ الْإِنسَنَ لَيَطْغَى
پر (یہ) کہ انسان (اب بھی) سرکش ہے
أَنْ رَءاه اسْتَغْنَى
کہ وہ خود کو غنی سمجھ بیٹھا ہے
إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى
ہالانکہ تمہارے رب (اور اس کے نظامِ حیات) کی طرف (تمام انسانیت کی) واپسی (ہی اُس کی منزل) ہے
أَرَءيْتَ الَّذِي يَنْهَى
کیا (تم نے) ایسے شخص کو دیکھا ہے جو روکنے (اور جابر ہونے) کی کوشش کرتا ہو؟
عَبْدًا إِذَا صَلَّى
جو اُس بندے کو (روکے،) جو اللہ کے احکام (یعنی اِس قرآن) کی پیروی کرنا چاہتا ہو؟
أَرَءيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى
کیا (تم نے اُس روکنے والے شخص کو کسی بھی لحاظ سے) راہِ حق پہ دیکھا ہے؟
أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى
یا اُس کی روِش فرحت والے منتہٰی تک پہنچانے والی ہوتی
أَرَءيْتَ إِنْ كذَّبَ وَتَوَلَّى
کیا (پھر تم اُسے) تکذیب کرتے دیکھتے؟ اور (وہ بھی) اپنے ہی مددگار کی؟
أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى
کیا (وہ شخص یہ) نہیں سمجھتا کہ قانونِ خداوند اِستسنٰی سے پاک ہے؟
كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعَا بِالنَّاصِيَةِ
کہ اگر اُس نے اپنی روِش نہ بدلی، تو اسے اس کی (آنکھیں کھول دینے کی غرض سے) پیشانی کے بالوں سے پکڑا جاۓ گا؟
نَاصِيَةٍ كَذِبَةٍ خَاطِئَةٍ
کیونکہ (وہ ایک سرکش و لاعِلم گھوڑے کی طرح ہے، جس کی) پیشانی کے بال (اُسکا) مُنہ موڑ کر راہِ راست سے ہٹا رہے ہیں
فَلْيَدْعُ نَادِيَه
پھر بُلا لینے دو اُسے اپنی (نامنہاد) پنچایِت
سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ
ہیں اِن جیسوں (کو درست کرنے) کے لیۓ (ہمارے) قولنین
كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ
ہرگِز مت اطاعت کرو اِن (سرکشوں) کی، بلکہ (احکامِ الٰہی کے) پیکرِ تسلیم بنو، اور (یہ راستہ اپناتے ہی تم دیکھو گے کہ ہر قدم پہ تم اپنے منتہٰی سے) قریب تر ہو
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے (ابتدا کرتا ہوں،) جو سامانِ ربوبیت و تواتر سے میسّر کرتا ہے
وَالشَّمْسِ وَضُحَهَا
اور گواہ ہے خورشید اور اُس کی ضیا
وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَهَا
اور مہتاب (جو یوں تو نظر سے اوجھل ہوتا ہے، علاوہ ازیں) کہ وہ اِس (روشنی) کو مستعار لے
وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّهَا
اور (وہ بھی اِس طرح کہ جیسے کُرّہ ارض پہ) دن، جب وہ اُس (نور) سے روشن ہوتا ہے
وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَهَا
اور رات جب وہ اُس (کے فِراق) میں اندیھری ہوجاتی ہے
وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَهَا
اور (یہ ہے نظامِ) کأنات اور اُس کا نقشِ حرفت
وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَهَا
اور زمین اور اُس کی مُجسّم وسعت
وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّهَا
اور نفسِ انسانی اور اس کی بساعت
فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَهَا
کہ کِس طرح وہ (غفلت کی گہرأیوں میں) منتزع اور (علم و دانِش اور اِنکساری کی بلندیوں پہ) منتہٰی پزیر ہوتا ہے
قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا
بیشک جس نے (اپنے نفس کا) تزکیہ کِیا، اس نے فلاح پائ
وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّهَا
اور جس نے اُسے (غفلت میں) ڈبو دیا، وہ نامُراد ہوا
كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَهَا
ثمود نے تاغوت (و تکبّر) ہی کے نشے میں (پیغامِ خداوند سے) مُنہ موڑا تھا
إِذْ انْبَعَثَ أَشْقَهَا
کہ جب (پرستشِ ظلم و باطل، جو) صِرف اُن کا نِگار (تھا،) ان کے پیشِ نظر تھا
فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ نَاقَةَ اللَّهِ وَسُقْيَهَا
تو (اُس وقت) اللہ کے رسول (صالح) نے ان کو بتلایا کہ اُس اللہ کی اونٹنی کو (جو انسان کی خودی ہے،) پھلنے پھولنے دو
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا
پر جھٹلانے والے بالآخر اُسے (اپنے بناۓ ہوۓ جھوٹے مذہب کی خاطر) ختم کر بیٹھے
فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّهَا
تو آخرکار اُنکے رب نے (قانونِ مکافاتِ عمل کو مد نظر رکھا، اور) اُنکی روِشِ (فسق و) غفل کے تسلسُل کی بنا پر اُن کے وجود کو مِٹا کر دوسروں کو ترجیح دی
وَلَا يَخَافُ عُقْبَهَا
کیونکہ (ان کی غفلت و تکبر کی یہ انتہا تھی کہ وقتِ آخِر تک) اُن کو یہ خوف ہی نہ ہوا کہ کوئ اور بھی ان کی جگہ لے سکتا ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے (ابتدا کرتا ہوں،) جو (تمام) پروردگاری (اور) رحم کا منبع ہے
تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ
بربادی ہے اُس (انسان) کے لیٔے طاقت اور اس کی تمام کاوِشات، جو (اپنے اندر بھڑکے ہوءے حوس اور بدکاری کے) شُعلے (کی کفالت کرتا ہے، کہ جیسے وہ اُس شَرارے) کا باپ ہے؛ (وہ شخص) تباہ ہے
مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ
اُس کی مال و دولت (جس کا استعمال وہ برے کاموں ہی کے لیٔے کر سکتا ہے،) اس کے کِسی کام نہ آٔے گی
سَيَصْلَى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ
اور (وہ) آگ (جو وہ چِنگاری لگاءے گی، وہی چِنگاری جس کو وہ اپنے اندر سمیٹے بیٹھا ہے) اُسے (اندر ہی سے) بھسم کردے گی
وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ
اور وہ جو اس کی (حیوانیت ہے، جس کو وہ اپنی) بیوی (کی طرح عزیز رکھتا) ہے؛ وہی جس نے (اُس کو) یہ کرنے پہ اُکسایا ہے
فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِنْ مَسَدٍ
اُس کو (دنیا اور آخرت میں اِس شخص کے لیٔے) کھجور کی چھال کے بنے پھندے (کی مانِند کر دِیا جأے گا، اور اُس) سے آراتہ کِیا جأے گا
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے (ابتدا کرتا ہوں،) جو (تمام) پروردگاری (اور) رحم کا منبع ہے
إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ
ہم نے تم کو (اے اللہ کے رسول، اور وہ، جو اپنی اصلاح چاہے، علم و فہم و استقامت کی) کثرت (جو آخرت میں کامیابی کا سامان ہے،) عطا کی ہے
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
تو تم اپنے رب (کے احکام) کی اطاعت کرو اور (انسانیت کے بھلے کی خاطر اپنے آرام و آسأش کی) قربانی دیتے رہو
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ
بیشک وہ جو تمہارے خلاف ہیں، (جو صرف اپنے فأدے اور دنیاوی عیش و آرام کی خاطر دوسروں کو قربان کردیتے ہیں،) اُس (کثرت والے انعام) سے محروم رہیں گے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے (ابتدا کرتا ہوں،) جو (تمام) پروردگاری (اور) رحم کا منبع ہے
إِذَا زُلْزِلَتْ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا
جب کُرہِ ارض (ایک انقلاب کے) لرزے سے لرز اٹھے گا
وَأَخْرَجَتْ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا
اور زمین (جدید ترقی کے وسیلے، جس کو تم علومِ جُغرافیہ، تبقاتِ الارض، مِیٹِیَٔرالوجی، مأینِنگ اور آرکِیالوجِیکل سأنس کے نام سے پہچانو گے) اپنے تمام راز نکال باہر کرے گی
وَقَالَ الْإِنسَنُ مَا لَهَا
اور انسان (زمین سے) کہے گا: یہ (بتأو کہ میری حقیقت اور آغاز) کیا ہے؟
يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا
اس وقت وہ اپنا حال بیان کرے گی
بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا
اپنے رب کی رضامندی سے، جس کو (اللہ انسان کی بُلند خودی اور اِرتقٰی دیکھ کر، کہ آخرکار انسان اِس سچّأی کا سامنہ کرنے کو تیّار ہے،) ظاہر کرے گا
يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِيُرَوْا أَعْمَلَهُمْ
اس دِن جب انسان کی پہچان (اوقات سے نہیں بلکہ اعمال اور محنت و لگن کی بنا پر) الگ الگ کی جأے گی
فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَه
یہاں تک کہ جس نے ذرہ برابر بھی خیر کا کام کِیا ہو گا، وہ نظر آٔے گا
وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَه
اور جس نے ذرہ برابر بھی بدکاری کا کام کِیا ہو گا، وہ نظر آٔے گا
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے (ابتدا کرتا ہوں،) جو (تمام) پروردگاری (اور) رحم کا منبع ہے
إِنَّا أَنزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ القدر
بیشک ہم نے اِس (قرآن - یعنی اِس پوری کتاب) کو تقدیر والی رات میں (اپنے رسول پہ) نازل کیا تھا
وَمَا أَدْرَكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ
اور کیا تم کو معلوم نہیں، (کہ اب بھی سوال کر رہے ہو،) کہ (صدیوں پہلے گزر جانے والی اُس) شبِ پُر تقدیر (کی اہمیت) کیا ہے؟
لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ
تقدیر( بدل دینے) والی وہ (ایک) رات (جہالت کے) ہزارہا مہینوں سے بہتروبالا ہے
تَنَزَّلُ الْمَلَئِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ
کہ (اُس رات،) کأنات کی تمام قوتیں اور قوانین، اپنے رب کی پکار پہ (نوعِ انسان کے لیٔے) اِس (کتاب کی شکل) میں مُنجمِد ہؤے تھے
سَلَمٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ
امن و سلامتی (کا پیغام) ہے یہ (کتاب،) ہتّاکہ (اِس کے وسیلے) ایک نٔی صبح (استقامت سے جینے والوں کے لیٔے) طلوع ہو گی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے (ابتدا کرتا ہون،) جو (تمام) پروردگاری (اور) رحم کا منبع ہے
إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ
جب سورج (سے آراستہ پرچمِ مُلکِ فارَس، اور اس جیسی تمام سلطنتوں کے جھنڈوں) کو لپیٹ دیا جاۓ گا
وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ
اور جب (آسمان پہ) ستارون (کی طرح بکھرے ہوے قبأل) کی چمک مدھم پڑ جاۓ گی
وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ
اور جب پہاڑوں (کی طرح جمے جماۓ عناصر، جیساکہ خرافات، اور انکو پھیلانے والے لوگوں) کی بنیاد ہل کر رہ جاۓ گی
وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ
اور جب حاملہ اونٹنی (جیسی ملکیت) کو (جدید سأنسی ترقّی اور بدلتے ذرأعِ مواسلات کی بِناپر) مہجور کر دیا جأے گا
وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ
اور جب وحشی (انسان) بھی (شہریوں کی طرح زندگی بسر کرنے کے لۓ) اِکھٹے ہوجاءیں گے
وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ
اور جب سمندر (کشتیوں اور بیڑوں سے) بھر اٹّھیں گے
وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ
اور جب نفسِ انسانی قریب سے قریب تر (ہوگا، ہتّاکہ یہ جہاں سمٹ کر چھوٹا) ہو جاۓ گا
وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ
اور جب زندہ درگور کی گئ لڑکی سے دریافت کیا جاۓ گا
بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ
کہ کس جرم پہ ماری (گئ - ہتّاکہ عورتوں کے حقوق کی بحالی ہوکر رہ) گئ
وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ
اور جب تمام (معلومات سے لیس) پرچوں کو (بِلا جھجک) شأع کیا جاۓ (گا، اور ذرّہ برابر بھی نہ چھپا رہے) گا
وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْ
اور جب آسمان کو (جدید علوم کے ذریعہ سمجھا، اور) عُبور کر لیا جاۓ گا
وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ
اور جب (یہ دنیا نظامِ عدل و سزا کے) جوش سے بھڑک اٹّھے (گی، ہتاکہ طاقتوَر کو بھی سزا سنانے میں عار نہ کی جاۓ) گی
وَإِذَا الْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ
اور جب (اِس نظام اِلٰہی کی پیروی کے نتیجہ میں یہ دنیا) جنّت (سے) قریب تر ہوکر رہ جاۓ گی
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا أَحْضَرَتْ
نفسِ انسانی کو (تب) علم ہوگا کہ (اس نے) کس (حقیقت) کو تشکیل دیا ہے
فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ
تو قسم ہے اُن کی جو نظر سے اوجھل ہیں
الْجَوَارِ الْكُنَّسِ
وہ ستارے جو اپنی جگہ ڈوب (کر سیاہ شگاف بن کر رہ) گۓ
وَالَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ
اور اس (جاہلیّت کی) رات کی، جب وہ آخری سانس لے چکے
وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ
اور (اس) صبح کی جو (اس قولِ مبین کے وسیلے) بیدار ہوۓ چاہتی ہے
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ
بیشک یہ (کتابِ کریم، اللہ کے) رسول (محمد) کی زبان میں (نازل ہوءی) ہے
ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ
اُس نظام ہستی کی طرف سے، جو آسمان کا مالِک، بالاتر و بااِختیار ہے
مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
تو اس (رسول پہ نازل کِۓ گۓ پیغام) کی اطاعت کرو
وَمَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ
کہ تمہارا یہ (عزیز) دوست (جواللہ کا آخری رسول اورآخری نبی ہے،) مجنون نہیں
وَلَقَدْ رَءاهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ
بلکہ اس نے (عقل و فہم کو) شفّاف ترین منتہٰی پر سے دیکھا ہے
وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ
اور وہ ذرّہ برابر بھی (تم سے) پوشیدہ نہیں رکھتا
وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَنٍ رَجِيمٍ
اور نہ ہی وہ اچّھأی سے دور کی بات کرتا ہے
فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ
تو پھر تم کِس سمت جا رہے ہو؟
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَلَمِينَ
بیشک یہ تمام انسانیت کے لِۓ تنبیہ و تمحید ہے
لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ
تم میں سے (ان لوگوں کے لِۓ خاصکر) جو استقامت سے جینا چاہتے ہیں
وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ
کہ نہیں جی سکتے (اُس طرح،) رب العالمین (کے پیغام) کی پیروی کے بغیر
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے (ابتدا کرتا ہوں،) جو (تمام) پروردگاری (اور) رحم کا منبع ہے
وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوج
اور (قسم ہے اُس) آسمان (کی،) جو (تمام) کہکشاؤں کو (اپنے اندر) سمیٹے ہوۓ ہے
وَالْيَوْمِ الْمَوْعُود
اور وہ (انقلاب لانے والا) دن جس کا وعدہ (کیا گیا) ہے
وَشَاهِدٍ وَمَشْهُود
اور وہ (انسان) جو (اس وعدے کو پروان چڑھتے) دیکھے گا، اور وہ (حقیقت) جو (اس دن خود) گواہی دے
قُتِلَ أَصْحَبُ الْأُخْدُود
تباہ (کر رہے) ہیں (اپنے آپ کو) وہ لوگ جو (دوسروں کو نقصان پہنچانے کی غرض سے) گڑھے کھودتے ہیں
النَّارِ ذَاتِ الْوَقُود
اپنی سزا آپ تیّار کرتے جارہے ہیں
إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُود
دیکھو کِس طرح سوچتے اور گھات لگاتے ہیں
وَهُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُود
اور خوب جانتے ہیں وہ کہ (امن و) اِیمان سے رہنے والوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں
وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيد
اور صرف اس بنا پر کہ وہ (مسکین) اللہ پر یقین رکھتے ہیں، جو حکمت اور تعریف والا ہے
الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَوَتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيد
وہ، جس کی بادشاہت تمام کأنات میں ہے، اور (وہ) اللہ ہے جو ہر شے کو دیکھنے والا ہے
إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيق
بیشک، جن لوگوں نے ایمان سے جینا چاہنے والے مردوں اور عورتوں پہ فتنہ برپا کیا، وہ (وادیِ) جہنم (میں مجرموں کو سُنأی جانے) والی سزا کے حقدار ہیں - اور (یہ فلصطین کی وہی وادی) ہے (جہاں قومِ کنعان نے) اُن (جیسے مجرموں) کے لیۓ سزا (مُقّرر کی تھی،) بھسم کر دینے والی
إِنَّ الَّذِينَ ءامَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَهُمْ جَنَّت تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَرُ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِير
بیشک، جنہوں نے استقامت سے جینا چاہا، اور اصلاح کی کوشش کی، ان کے لیۓ (سر سبز و شاداب) باغات پوشیدہ ہیں، (جو) اُن سِلسلوں سے ظاہر ہوں گے، جن پر اُن کی بنیاد رکھی گئ ہے ۔ یہ (اچھے اعمال کا سِلسلہ) ہی (سب سے) بڑی کامیابی ہے
إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيد
بیشک، قوی ہے تمہارے رب کی گرفت
إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيد
وہی ہے جو زندگی کی ابتدا کرتا ہے اور اعادہ کرتا ہے
وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُود
اور وہ معاف کرنے والا، (اپنی مخلوق سے) محبت کرنے والا ہے
ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيد
عظیمُ الشّان تخت کا مالک
فَعَّال لِمَا يُرِيد
وہ کرنے والا جس کا اُس نے ارادہ کیا ہے
هَلْ أَتَكَ حَدِيثُ الْجُنُود
کیا اُن لشکروں کے قصّے تم تک پہنچے ہیں؟
فِرْعَوْنَ وَثَمُود
جو فرعون (کی قوم کے ہیں، جن کا ذکر احرامِ مصر کی لوحوں میں مُنقّش ہے) اور ثمود (کے، جن کے کھنڈرات نبَط کی وادیوں میں آج بھی اُن کی تباہی کے گواہ) ہیں؟
بَلْ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي تَكْذِيب
تب بھی (خدائ نظام کو) رد کرنے والے (اِس پیغام کی) تکذیب کر رہے ہیں؟
وَاللَّهُ مِنْ وَرَائِهِمْ مُحِيط
جبکہ اللہ (اُس کہکشاؤں والے آسمان کی طرح، جس کی قسم لی گٔی ہے،) ان (کفّار) کو اپنے احاطہ میں لیۓ ہوۓ ہے
بَلْ هُوَ قُرْءان مَجِيد
کیا وہ پڑھنے (اور سمجھنے) والی (کتاب) نہیں جو سب (کتابوں) سے بلند ہے؟
فِي لَوْحٍ مَحْفُوظ
جو (کمزور لوحوں پہ مُنقّش نہیں جو فرعون اور ثمود کی تھیں، بلکہ کأناتی نظام کی نہ مٹنے والی) لوح میں محفوظ ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے (ابتدا کرتا ہوں،) جو (تمام) پروردگاری (اور) رحم کا منبع ہے
وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ
اور (گواہ ہیں تمام : کوہِ) انجیر، (کہ جہاں نوح کی ناؤ آ رُکی،) اور (جہاں مسیح ابنِ مریم نے خطاب کیا تھا، یعنی جبلِ) زیتون
وَطُورِ سِينِينَ
اور (جہاں موسٰی نے اپنے رب سے کلام کِیا تھا، یعنی) طورِ سینا
وَهَذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ
اور (اب، محمد رسول اللہ کا مسکن،) یہ پُر امن (و ایمان) شہر
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ
کہ جہاں ہم (یعنی اللہ اور اُسکےقانونِ فطرت) نے انسان کو (تمام مخلوق سے) بہتر، (ایک) قوم (کی شکل) میں تخلیق کِیا
ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سَفِلِينَ
وہاں ہم نے (انسان کے اعمال کی بنا پر،) اس کو نچلے ترین مقام (یعنی مقامِ حیوانیت) تک پست کر دکھایا
إِلَّا الَّذِينَ ءامَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَاتِ فَلَهُمْ أَجْرغَيْرُ مَمْنُونٍ
ان لوگوں کے سِوا، جنہوں نے استفامت سے جینا چاہا، اور اصلاح کی کوشش کی - وہی (ہیں،) جن کے لیۓ نہ ختم ہونے والا اجر ہے
فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ
تو پھر تم خدائ نظامِ حیات کی تکذیب کس بنا پر رہے ہو؟
أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَكِمِينَ
کیا اللہ (ان تمام نامنہاد) حکمرانوں سے (کہ جن کو تم طاقتور، خِردمند اور قاضی قرار دیتے ہو،) بالاتر نہیں؟