# 091 - The Radiant Sun - الشَّمْسِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے (ابتدا کرتا ہوں،) جو سامانِ ربوبیت و تواتر سے میسّر کرتا ہے
وَالشَّمْسِ وَضُحَهَا
اور گواہ ہے خورشید اور اُس کی ضیا
وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَهَا
اور مہتاب (جو یوں تو نظر سے اوجھل ہوتا ہے، علاوہ ازیں) کہ وہ اِس (روشنی) کو مستعار لے
وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّهَا
اور (وہ بھی اِس طرح کہ جیسے کُرّہ ارض پہ) دن، جب وہ اُس (نور) سے روشن ہوتا ہے
وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَهَا
اور رات جب وہ اُس (کے فِراق) میں اندیھری ہوجاتی ہے
وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَهَا
اور (یہ ہے نظامِ) کأنات اور اُس کا نقشِ حرفت
وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَهَا
اور زمین اور اُس کی مُجسّم وسعت
وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّهَا
اور نفسِ انسانی اور اس کی بساعت
فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَهَا
کہ کِس طرح وہ (غفلت کی گہرأیوں میں) منتزع اور (علم و دانِش اور اِنکساری کی بلندیوں پہ) منتہٰی پزیر ہوتا ہے
قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا
بیشک جس نے (اپنے نفس کا) تزکیہ کِیا، اس نے فلاح پائ
وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّهَا
اور جس نے اُسے (غفلت میں) ڈبو دیا، وہ نامُراد ہوا
كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَهَا
ثمود نے تاغوت (و تکبّر) ہی کے نشے میں (پیغامِ خداوند سے) مُنہ موڑا تھا
إِذْ انْبَعَثَ أَشْقَهَا
کہ جب (پرستشِ ظلم و باطل، جو) صِرف اُن کا نِگار (تھا،) ان کے پیشِ نظر تھا
فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ نَاقَةَ اللَّهِ وَسُقْيَهَا
تو (اُس وقت) اللہ کے رسول (صالح) نے ان کو بتلایا کہ اُس اللہ کی اونٹنی کو (جو انسان کی خودی ہے،) پھلنے پھولنے دو
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا
پر جھٹلانے والے بالآخر اُسے (اپنے بناۓ ہوۓ جھوٹے مذہب کی خاطر) ختم کر بیٹھے
فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّهَا
تو آخرکار اُنکے رب نے (قانونِ مکافاتِ عمل کو مد نظر رکھا، اور) اُنکی روِشِ (فسق و) غفل کے تسلسُل کی بنا پر اُن کے وجود کو مِٹا کر دوسروں کو ترجیح دی
وَلَا يَخَافُ عُقْبَهَا
کیونکہ (ان کی غفلت و تکبر کی یہ انتہا تھی کہ وقتِ آخِر تک) اُن کو یہ خوف ہی نہ ہوا کہ کوئ اور بھی ان کی جگہ لے سکتا ہے
اللہ کے نام سے (ابتدا کرتا ہوں،) جو سامانِ ربوبیت و تواتر سے میسّر کرتا ہے
وَالشَّمْسِ وَضُحَهَا
اور گواہ ہے خورشید اور اُس کی ضیا
وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَهَا
اور مہتاب (جو یوں تو نظر سے اوجھل ہوتا ہے، علاوہ ازیں) کہ وہ اِس (روشنی) کو مستعار لے
وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّهَا
اور (وہ بھی اِس طرح کہ جیسے کُرّہ ارض پہ) دن، جب وہ اُس (نور) سے روشن ہوتا ہے
وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَهَا
اور رات جب وہ اُس (کے فِراق) میں اندیھری ہوجاتی ہے
وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَهَا
اور (یہ ہے نظامِ) کأنات اور اُس کا نقشِ حرفت
وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَهَا
اور زمین اور اُس کی مُجسّم وسعت
وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّهَا
اور نفسِ انسانی اور اس کی بساعت
فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَهَا
کہ کِس طرح وہ (غفلت کی گہرأیوں میں) منتزع اور (علم و دانِش اور اِنکساری کی بلندیوں پہ) منتہٰی پزیر ہوتا ہے
قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا
بیشک جس نے (اپنے نفس کا) تزکیہ کِیا، اس نے فلاح پائ
وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّهَا
اور جس نے اُسے (غفلت میں) ڈبو دیا، وہ نامُراد ہوا
كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَهَا
ثمود نے تاغوت (و تکبّر) ہی کے نشے میں (پیغامِ خداوند سے) مُنہ موڑا تھا
إِذْ انْبَعَثَ أَشْقَهَا
کہ جب (پرستشِ ظلم و باطل، جو) صِرف اُن کا نِگار (تھا،) ان کے پیشِ نظر تھا
فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ نَاقَةَ اللَّهِ وَسُقْيَهَا
تو (اُس وقت) اللہ کے رسول (صالح) نے ان کو بتلایا کہ اُس اللہ کی اونٹنی کو (جو انسان کی خودی ہے،) پھلنے پھولنے دو
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا
پر جھٹلانے والے بالآخر اُسے (اپنے بناۓ ہوۓ جھوٹے مذہب کی خاطر) ختم کر بیٹھے
فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّهَا
تو آخرکار اُنکے رب نے (قانونِ مکافاتِ عمل کو مد نظر رکھا، اور) اُنکی روِشِ (فسق و) غفل کے تسلسُل کی بنا پر اُن کے وجود کو مِٹا کر دوسروں کو ترجیح دی
وَلَا يَخَافُ عُقْبَهَا
کیونکہ (ان کی غفلت و تکبر کی یہ انتہا تھی کہ وقتِ آخِر تک) اُن کو یہ خوف ہی نہ ہوا کہ کوئ اور بھی ان کی جگہ لے سکتا ہے