# 081 - The Folding Up - التَکوِیر
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے (ابتدا کرتا ہون،) جو (تمام) پروردگاری (اور) رحم کا منبع ہے
إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ
جب سورج (سے آراستہ پرچمِ مُلکِ فارَس، اور اس جیسی تمام سلطنتوں کے جھنڈوں) کو لپیٹ دیا جاۓ گا
وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ
اور جب (آسمان پہ) ستارون (کی طرح بکھرے ہوے قبأل) کی چمک مدھم پڑ جاۓ گی
وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ
اور جب پہاڑوں (کی طرح جمے جماۓ عناصر، جیساکہ خرافات، اور انکو پھیلانے والے لوگوں) کی بنیاد ہل کر رہ جاۓ گی
وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ
اور جب حاملہ اونٹنی (جیسی ملکیت) کو (جدید سأنسی ترقّی اور بدلتے ذرأعِ مواسلات کی بِناپر) مہجور کر دیا جأے گا
وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ
اور جب وحشی (انسان) بھی (شہریوں کی طرح زندگی بسر کرنے کے لۓ) اِکھٹے ہوجاءیں گے
وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ
اور جب سمندر (کشتیوں اور بیڑوں سے) بھر اٹّھیں گے
وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ
اور جب نفسِ انسانی قریب سے قریب تر (ہوگا، ہتّاکہ یہ جہاں سمٹ کر چھوٹا) ہو جاۓ گا
وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ
اور جب زندہ درگور کی گئ لڑکی سے دریافت کیا جاۓ گا
بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ
کہ کس جرم پہ ماری (گئ - ہتّاکہ عورتوں کے حقوق کی بحالی ہوکر رہ) گئ
وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ
اور جب تمام (معلومات سے لیس) پرچوں کو (بِلا جھجک) شأع کیا جاۓ (گا، اور ذرّہ برابر بھی نہ چھپا رہے) گا
وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْ
اور جب آسمان کو (جدید علوم کے ذریعہ سمجھا، اور) عُبور کر لیا جاۓ گا
وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ
اور جب (یہ دنیا نظامِ عدل و سزا کے) جوش سے بھڑک اٹّھے (گی، ہتاکہ طاقتوَر کو بھی سزا سنانے میں عار نہ کی جاۓ) گی
وَإِذَا الْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ
اور جب (اِس نظام اِلٰہی کی پیروی کے نتیجہ میں یہ دنیا) جنّت (سے) قریب تر ہوکر رہ جاۓ گی
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا أَحْضَرَتْ
نفسِ انسانی کو (تب) علم ہوگا کہ (اس نے) کس (حقیقت) کو تشکیل دیا ہے
فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ
تو قسم ہے اُن کی جو نظر سے اوجھل ہیں
الْجَوَارِ الْكُنَّسِ
وہ ستارے جو اپنی جگہ ڈوب (کر سیاہ شگاف بن کر رہ) گۓ
وَالَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ
اور اس (جاہلیّت کی) رات کی، جب وہ آخری سانس لے چکے
وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ
اور (اس) صبح کی جو (اس قولِ مبین کے وسیلے) بیدار ہوۓ چاہتی ہے
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ
بیشک یہ (کتابِ کریم، اللہ کے) رسول (محمد) کی زبان میں (نازل ہوءی) ہے
ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ
اُس نظام ہستی کی طرف سے، جو آسمان کا مالِک، بالاتر و بااِختیار ہے
مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
تو اس (رسول پہ نازل کِۓ گۓ پیغام) کی اطاعت کرو
وَمَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ
کہ تمہارا یہ (عزیز) دوست (جواللہ کا آخری رسول اورآخری نبی ہے،) مجنون نہیں
وَلَقَدْ رَءاهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ
بلکہ اس نے (عقل و فہم کو) شفّاف ترین منتہٰی پر سے دیکھا ہے
وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ
اور وہ ذرّہ برابر بھی (تم سے) پوشیدہ نہیں رکھتا
وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَنٍ رَجِيمٍ
اور نہ ہی وہ اچّھأی سے دور کی بات کرتا ہے
فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ
تو پھر تم کِس سمت جا رہے ہو؟
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَلَمِينَ
بیشک یہ تمام انسانیت کے لِۓ تنبیہ و تمحید ہے
لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ
تم میں سے (ان لوگوں کے لِۓ خاصکر) جو استقامت سے جینا چاہتے ہیں
وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ
کہ نہیں جی سکتے (اُس طرح،) رب العالمین (کے پیغام) کی پیروی کے بغیر
اللہ کے نام سے (ابتدا کرتا ہون،) جو (تمام) پروردگاری (اور) رحم کا منبع ہے
إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ
جب سورج (سے آراستہ پرچمِ مُلکِ فارَس، اور اس جیسی تمام سلطنتوں کے جھنڈوں) کو لپیٹ دیا جاۓ گا
وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ
اور جب (آسمان پہ) ستارون (کی طرح بکھرے ہوے قبأل) کی چمک مدھم پڑ جاۓ گی
وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ
اور جب پہاڑوں (کی طرح جمے جماۓ عناصر، جیساکہ خرافات، اور انکو پھیلانے والے لوگوں) کی بنیاد ہل کر رہ جاۓ گی
وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ
اور جب حاملہ اونٹنی (جیسی ملکیت) کو (جدید سأنسی ترقّی اور بدلتے ذرأعِ مواسلات کی بِناپر) مہجور کر دیا جأے گا
وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ
اور جب وحشی (انسان) بھی (شہریوں کی طرح زندگی بسر کرنے کے لۓ) اِکھٹے ہوجاءیں گے
وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ
اور جب سمندر (کشتیوں اور بیڑوں سے) بھر اٹّھیں گے
وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ
اور جب نفسِ انسانی قریب سے قریب تر (ہوگا، ہتّاکہ یہ جہاں سمٹ کر چھوٹا) ہو جاۓ گا
وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ
اور جب زندہ درگور کی گئ لڑکی سے دریافت کیا جاۓ گا
بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ
کہ کس جرم پہ ماری (گئ - ہتّاکہ عورتوں کے حقوق کی بحالی ہوکر رہ) گئ
وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ
اور جب تمام (معلومات سے لیس) پرچوں کو (بِلا جھجک) شأع کیا جاۓ (گا، اور ذرّہ برابر بھی نہ چھپا رہے) گا
وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْ
اور جب آسمان کو (جدید علوم کے ذریعہ سمجھا، اور) عُبور کر لیا جاۓ گا
وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ
اور جب (یہ دنیا نظامِ عدل و سزا کے) جوش سے بھڑک اٹّھے (گی، ہتاکہ طاقتوَر کو بھی سزا سنانے میں عار نہ کی جاۓ) گی
وَإِذَا الْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ
اور جب (اِس نظام اِلٰہی کی پیروی کے نتیجہ میں یہ دنیا) جنّت (سے) قریب تر ہوکر رہ جاۓ گی
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا أَحْضَرَتْ
نفسِ انسانی کو (تب) علم ہوگا کہ (اس نے) کس (حقیقت) کو تشکیل دیا ہے
فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ
تو قسم ہے اُن کی جو نظر سے اوجھل ہیں
الْجَوَارِ الْكُنَّسِ
وہ ستارے جو اپنی جگہ ڈوب (کر سیاہ شگاف بن کر رہ) گۓ
وَالَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ
اور اس (جاہلیّت کی) رات کی، جب وہ آخری سانس لے چکے
وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ
اور (اس) صبح کی جو (اس قولِ مبین کے وسیلے) بیدار ہوۓ چاہتی ہے
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ
بیشک یہ (کتابِ کریم، اللہ کے) رسول (محمد) کی زبان میں (نازل ہوءی) ہے
ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ
اُس نظام ہستی کی طرف سے، جو آسمان کا مالِک، بالاتر و بااِختیار ہے
مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
تو اس (رسول پہ نازل کِۓ گۓ پیغام) کی اطاعت کرو
وَمَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ
کہ تمہارا یہ (عزیز) دوست (جواللہ کا آخری رسول اورآخری نبی ہے،) مجنون نہیں
وَلَقَدْ رَءاهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ
بلکہ اس نے (عقل و فہم کو) شفّاف ترین منتہٰی پر سے دیکھا ہے
وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ
اور وہ ذرّہ برابر بھی (تم سے) پوشیدہ نہیں رکھتا
وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَنٍ رَجِيمٍ
اور نہ ہی وہ اچّھأی سے دور کی بات کرتا ہے
فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ
تو پھر تم کِس سمت جا رہے ہو؟
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَلَمِينَ
بیشک یہ تمام انسانیت کے لِۓ تنبیہ و تمحید ہے
لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ
تم میں سے (ان لوگوں کے لِۓ خاصکر) جو استقامت سے جینا چاہتے ہیں
وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ
کہ نہیں جی سکتے (اُس طرح،) رب العالمین (کے پیغام) کی پیروی کے بغیر